ابھی ابھی

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - ذرا پہلے، دم بھر پہلے۔  توڑا ہے دم ابھی ابھی بیمار ہجر نے آئے مگر حضور کو تاخیر ہو گئی ٢ - فوراً، اسی وقت، دم بھر میں "میں ابھی اپنے فرشتۂ قدرت کو جو حکم دوں تو وہ ابھی ابھی تم سب کو کھا جائے۔"      ( ١٩٠٣ء، دفتر آفتاب شجاعت۔ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے مرکب ہے۔ لفظ 'ابھی' کی تکرار ہے زور پیدا کرنے کے لیے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٥ء کو "مثنوی عالم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - فوراً، اسی وقت، دم بھر میں "میں ابھی اپنے فرشتۂ قدرت کو جو حکم دوں تو وہ ابھی ابھی تم سب کو کھا جائے۔"      ( ١٩٠٣ء، دفتر آفتاب شجاعت۔ )